Samreen Memon
*شکراً یاربی*
*اے استاد! تیرا شکریہ*
کہ تُو نے میرا ہاتھ پکڑ کر
مجھے قرآن کے ذریعے صراط مستقیم کےراستے تک پہنچا دیا،
*اور مجھے اس قابل بنا دیا*
کہ میں اللہ کے کلام کو
صرف پڑھ نہ سکوں
بلکہ اسے اپنے دل میں محسوس بھی کر سکوں۔
*اور پھر آج وہ دن آ گیا…*
جب دورۂ قرآن اختتام ہوا۔
*لیکن عجیب بات یہ ہے*
کہ ایسا نہیں لگ رہا
کہ کوئی چیز ختم ہوئی ہے۔
*بلکہ ایسا لگ رہا ہے*
جیسے میرے دل کے اندر
کچھ ابھی ابھی شروع ہوا ہے۔
*شروع میں میں نے سوچا تھا*
یہ صرف ایک کورس ہوگا،
کچھ آیات سنیں گے،
کچھ باتیں سیکھیں گے
اور زندگی ویسے ہی چلتی رہے گی۔
*لیکن قرآن نے*
زندگی کو ویسا رہنے ہی نہیں دیا۔
*ہر دن ایک آیت*
میرے دل کے کسی بند دروازے پر دستک دیتی رہی۔
*کبھی میرے گناہ سامنے آ گئے*
*کبھی میری غفلت* ،
*کبھی میری کمزوریاں*
اور میں حیران رہ گئی
کہ میں خود کو کتنا ٹھیک سمجھتی تھی۔
*پھر آہستہ آہستہ* دل بدلنے لگا
جو سجدے پہلے عادت تھے
وہ اب ضرورت بن گئے۔
جو دعائیں پہلے مختصر تھیں
وہ اب لمبی ہونے لگیں۔
جو ذکر پہلے زبان تک تھا
وہ اب دل میں اترنے لگا۔
اور مجھے پہلی بار سمجھ آیا
کہ *الْقُرْآنُ رَبِيعُ قَلْبِي*
کیوں کہا جاتا ہے۔
*قرآن واقعی*
دلوں کی بہار ہے۔
وہ دل کے سوکھے حصوں میں
زندگی بھر دیتا ہے۔
وہ گناہوں کا احساس بھی دیتا ہے
اور توبہ کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔
*وہ انسان کو توڑتا بھی ہے*
اور اپنے رب کے سامنے جھکا بھی دیتا ہے۔
*آج جب دورۂ قرآن مکمل ہوا ہے*
تو دل میں ایک عجیب سی کیفیت ہے۔
*خوشی بھی ہے*
کہ اللہ نے یہ سفر مکمل کروایا۔
اور ایک خاموش سی دعا بھی ہے
*کہ یا رب*
یہ تعلق کبھی ٹوٹنے نہ دینا۔
*کیونکہ اب سمجھ آ گیا ہے*
کہ قرآن کے بغیر
دل دوبارہ ویسا ہی خالی ہو جاتا ہے
جیسا پہلے تھا۔
*الحمد للہ*
یہ صرف تلاوت نہیں ہے۔
*یہ دل کا علاج ہے*
*یہ روح کی بیداری ہے*
یہ رب کی طرف واپسی کا راستہ ہے۔
جس پر مرتے دم تک چلتے رہنا ہے ہمیں *ان شاءاللہ*
*الْقُرْآنُ رَبِيعُ قَلْبِي*
اور واقعی
قرآن میرے دل کی بہار بن چکا ہے۔ 

*جزاکِ اللہ خیراً کثیراً*
Leave a Comment